اےسدپارہ کے شیر دل جوان کا تاریخی جملہ
“اگر کبھی میں بر فیلی تہوں میں دھنس گیا تو برف کا گھر بنا کے
بھوکا پیاسا بھی رہ سکتا ہوں
علی
سدپارہ ۔ ۲۰۰۹
برفیلی
ہوائیں تمہارے جگر سے پار ہو رہی ہوں گے تمہارے اعصاب پر برف کی تہ جم چکی ہو گی
تمہارا لباس برف آلود ہو چکا ہو گا تم جو اس خودسر کو سر کرنے چلے تھے جس کی چوٹی
پر خدا بھی دکھائ دیتا ہے جہاں موت حیات میں بدل جاتی ہے پر یوں لگتا ہے شاید اس
خودسر کو سر کرنے تم گئے تھے وہ تم پر اور
تمہاری جواں مردی پر فدا ہو گئ ہے وہ تمہیں
اپنی آغوش میں سمونا چاہتی ہے تمہیں اپنے سینے سے لگانا چاہتی ہے اور شاید تم بھی یہی
چاہتے تھے کہ کہ تمہارا تنفس بھی اسی کوچہ دلبراں میں ٹوٹے جہاں کی برف چھانتے تم
نے عمر گزاری ہے مگر ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے ابھی تو بہت سے پتھریلے راستے
تمہارے قدموں کی چاپ کو سننے کے لیے ترس رہے ہیں تمہاری دید کے لیے نوکیلے پتھر
موم ہوۓ
بیٹھے ہیں محمد علی تم لوٹو گے کیوں کہ تمہارا نام بھی اس نام پر ہے جس نے در خیبر
اکھاڑ پھینکا تھا تم اس طلسم ہوش ربا کو
سنانے ضرور لوٹو گے
مگر
شاید تم نہیں جانتے کہ یہاں کے مولوی خانے تم پر خودکشی کا فتویٰ لگا چکے ہیں مگر یہ
نہیں جانتے کہ وہ عکس جو تمہاری نظروں میں سمویا ہے اگر وا ہو جاۓ
تو یہ اپنے سینے شق کر لیں تمہاری آنکھوں چھپے منظر اس دنیا کی گرفت سے عاری ہیں یہ
نہیں جانتے کہ اس دیوہیکل پہاڑ کی چوٹی پر خدا بیٹھا ہوا ہے جہاں سارے فلسفے، ساری
حیات و موت کی کشمکش، ساری دوریاں دم توڑ جاتی ہے جہاں حقیقت کا منہ کھل جاتے ہے
جہاں سے معرفت کا آغاز ہوتا ہے جہاں دوئ کی بو ختم ہو جاتی ہے اور جہاں کے سجدے میں
حقیقتاً خدا دکھتا ہے
یہ
لوگ گوتم بدھ کے نروان کی کہانی سناتے نہیں تھکتے انکے اسباق میں ابن حلاج کے قصے
دہراۓ
جاتے ہیں یہ معرفت کی گردان کرتے سالہاسال سے کسی کٹیا میں بند ہیں انہیں کیا
معلوم تم جہاں ہو وہاں معرفت مفت بٹ رہی ہے اے شیر جوان تیری کہانی ہم پر قرض ہے
جس کو سنانے کو تجھے ضرور لوٹنا ہوگا·
دلچسپ
بات یہ ہے کہ جبلت کے سر پر تہذیب کا بوجھ سماج خود لاد دیتا ہے۔ کسی بھی چیز کو
اسکی فطرت سے الگ نہیں کیا جاسکتا چہ جائیکہ اسے سیکس یا کسی بھی فطری جبلت سے دور
رکھا جائے۔ سیکس کو گِلٹ سے ملفوف سمجھنے کا ایک واضح نتیجہ چائلڈ ابیوز کی شکل میں
سامنے آیا ہے۔

0 Comments